Saturday, 13 November 2021

میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان گفتگو رہے

 میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان گفتگو رہے

کچھ نہ بھی رہے میرے پاس مگر تُو رہے

میں چاہتا ہوں میری بیٹی شرارتی ہو بہت

میں چاہتا ہوں اس کی عادت تیرے ہو بہو رہے

میں چاہتا ہوں یہ آنکھیں تجھے دیکھتی رہیں

میں چاہتا ہوں زبان تیرے ذکر سے با وضو رہے

میں چاہتا ہوں تجھے دیکھ کر مسکراؤں میں

میں چاہتا ہوں تیرا چہرہ میرے روبرو رہے

میں چاہتا ہوں میرا نام ہو تیرے نام کے آگے

میں چاہتا ہوں تیرے نام کی یہی آبرو رہے

میں چاہتا ہوں میرے کوٹ کا ٹوٹا بٹن لگاؤ تم

میں چاہتا ہوں کوٹ میں تیری خوشبو رہے

میں چاہتا ہوں تیری کلائی کو تراش لوں ایسا

جھنگ کی چوڑیوں کو تیری کلائی کی آرزو رہے


شاویز احسن

No comments:

Post a Comment