Tuesday, 15 February 2022

کر کے حالات کو گوارا اکثر

 کر کے حالات کو گوارا اکثر

محبتوں میں ہوتا ہے خسارا اکثر

موت کی دہلیز پہ لا کر مجھ کو

زندگی کر دیتی ہے اشارا اکثر

وقت پہلے ہی اسے چھین لیتا ہے

شخص جو ہوتا جان سے پیارا اکثر

ڈوبنے والے اک آس پہ مر جاتے ہیں

پھِسل جاتا ہے دریا کا کِنارا اکثر

خدا کے آگے کبھی ہاتھ اٹھاؤں تو

نام دل سے نکلتا ہے تمہارا اکثر

اپنے ہی نوچتے ہیں سانسوں کو یہاں

اپنے ہی چھین لیتے ہیں سہارا اکثر

اپنی دعاؤں کو سر سے وار کر

میں نے صدقہ اک شخص کا اتارا اکثر

میں نے خود کو ہی آواز دی مسلسل

میں نے خود کو ہی مُشکل میں پکارا اکثر


شاویز احسن

No comments:

Post a Comment