کر کے حالات کو گوارا اکثر
محبتوں میں ہوتا ہے خسارا اکثر
موت کی دہلیز پہ لا کر مجھ کو
زندگی کر دیتی ہے اشارا اکثر
وقت پہلے ہی اسے چھین لیتا ہے
شخص جو ہوتا جان سے پیارا اکثر
ڈوبنے والے اک آس پہ مر جاتے ہیں
پھِسل جاتا ہے دریا کا کِنارا اکثر
خدا کے آگے کبھی ہاتھ اٹھاؤں تو
نام دل سے نکلتا ہے تمہارا اکثر
اپنے ہی نوچتے ہیں سانسوں کو یہاں
اپنے ہی چھین لیتے ہیں سہارا اکثر
اپنی دعاؤں کو سر سے وار کر
میں نے صدقہ اک شخص کا اتارا اکثر
میں نے خود کو ہی آواز دی مسلسل
میں نے خود کو ہی مُشکل میں پکارا اکثر
شاویز احسن
No comments:
Post a Comment