دل بغاوت کر جاتا ہے، آرزو نہیں رہتی
منزلیں بِک جائیں تو جستجو نہیں رہتی
کیسے رہتا وہ بھلا عمر بھر میرے پاس
پھولوں میں دیر تلک خوشبو نہیں رہتی
وقت لکھتا ہے سارے حساب ماتھے پر
صورتیں پہلے جیسی ہوبہو نہیں رہتی
چھوٹ ہی جاتا ہے دامن کہیں نہ کہیں
محبت ساری عمر رو برو نہیں رہتی
کٹنے کے ڈر سے کسی کے سامنے گردن
جھُک جائے تو شانوں کی آبرو نہیں رہتی
شاویز احسن
No comments:
Post a Comment