Monday, 18 April 2022

تہہ ساگر سے صدف ڈھونڈ رہا ہوں

 تہِ ساگر سے صدف ڈھونڈ رہا ہوں

میں اسے چار طرف ڈھونڈ رہا ہوں

یوں بھروسہ ہے اٹھا شہر وفا سے

نہ مدینہ، نہ نجف ڈھونڈ رہا ہوں

نہ گرائے نہ جھکائے جو کبھی سر

میں ابھی ایسے کلف ڈھونڈ رہا ہوں

اے خدا! راز بتا آبِ شفا کا

کہ نیا روز ہدف ڈھونڈ رہا ہوں

یوں بجے ایک جہاں دیکھ لے امبر

سو ابھی اور وہ دف ڈھونڈ رہا ہوں


شہباز امبر رانجھا 

No comments:

Post a Comment