Monday, 18 April 2022

تمام شہر ہی جس کی دہائی دیتا ہے

 تمام شہر ہی جس کی دہائی دیتا ہے

وہ چہرہ دیکھیے کس کو دکھائی دیتا ہے

میں مانتا ہی نہیں ہوں وگرنہ تیرے عوض

خدا تو دینے کو اب بھی خدائی دیتا ہے

وہی تو رہ گیا پیچھے جو اُس کے ساتھ چلا

وہ تیز رو بھلا کس کو مِلائی دیتا ہے

دعا وہ مرنے نہیں دیتی جو بہن کر دے

وہ زخم جاتا نہیں ہے، جو بھائی دیتا ہے


طارق عزیز سلطانی

No comments:

Post a Comment