تمام شہر ہی جس کی دہائی دیتا ہے
وہ چہرہ دیکھیے کس کو دکھائی دیتا ہے
میں مانتا ہی نہیں ہوں وگرنہ تیرے عوض
خدا تو دینے کو اب بھی خدائی دیتا ہے
وہی تو رہ گیا پیچھے جو اُس کے ساتھ چلا
وہ تیز رو بھلا کس کو مِلائی دیتا ہے
دعا وہ مرنے نہیں دیتی جو بہن کر دے
وہ زخم جاتا نہیں ہے، جو بھائی دیتا ہے
طارق عزیز سلطانی
No comments:
Post a Comment