Thursday, 5 March 2026

وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا

 وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا

کچھ بھی ہو سکتا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا تھا

تم یقیناً ابھی آئے تھے ابھی لوٹ گئے

چشمِ احساس کو دھوکہ نہیں ہو سکتا تھا

یہ تو صد شکر کہ تو نے مجھے دیکھا ورنہ

میرا ہونا مِرا ہونا نہیں ہو سکتا تھا

تُو نہیں تیرے علاوہ بھی کوئی ہے تجھ سا

ورنہ اک شخص تو دنیا نہیں ہو سکتا تھا

میرے ہونے سے کنور کھیل جما ہے کیسا

میں نہ ہوتا تو تماشا نہیں ہو سکتا تھا


کنور امتیاز احمد

No comments:

Post a Comment