Thursday, 5 March 2026

چوری چھپے کھاتے ہیں کچھ انسان سموسہ

 سموسہ


چوری چھپے کھاتے ہیں کچھ انسان سموسہ 

ہیں وہ بھی جو کھائیں علی الاعلان سموسہ 

ہو ناشتے میں لنچ میں پھر ہو یہ ڈنر میں 

بس ان کا چلے تو ملے ہر آن سموسہ 

پنواڑی نے کاٹا جو مثلث کی طرح پان 

بولے کہ یہ لگتا ہے مجھے پان سموسہ 

ملہار وہ گائیں یا کوئی راگنی چھیڑیں 

ہر بار لگاتے ہیں وہی تان سموسہ 

یوں تو وہ سخی دل کے ہیں لیکن جو ہو ممکن 

ہر ایک گداگر کو کریں دان سموسہ 

دفتر میں جو ظہرانہ دیا جاتا ہے سب کو 

وہ چاہتے ہیں روز ملے نان سموسہ 

غم کا کوئی مارا گو ہو کتنا ہی فسردہ 

لاتا ہے لبوں پر نئی مسکان سموسہ 

کھائیں جو سموسہ تو ہے لازم رہیں محتاط 

یہ ہو نہ شکم میں لگے پیکان سموسہ 

ناقص کسی بھی شے سے بنا کھائیں نہ ورنہ 

کر دے گا ضرور آپ کو ہلکان سموسہ 

یوں تو ہے یہ کم قیمت و خوش ذائقہ خوراک 

اس نے مجھے دلوایا ہے دیوان سموسہ 

اشعار خدا داد ہیں یہ شکر ہے رب کا 

یکجا ہوئے ہیں سب یہ بعنوان سموسہ 


کلیم چغتائی​

No comments:

Post a Comment