سموسہ
چوری چھپے کھاتے ہیں کچھ انسان سموسہ
ہیں وہ بھی جو کھائیں علی الاعلان سموسہ
ہو ناشتے میں لنچ میں پھر ہو یہ ڈنر میں
بس ان کا چلے تو ملے ہر آن سموسہ
پنواڑی نے کاٹا جو مثلث کی طرح پان
بولے کہ یہ لگتا ہے مجھے پان سموسہ
ملہار وہ گائیں یا کوئی راگنی چھیڑیں
ہر بار لگاتے ہیں وہی تان سموسہ
یوں تو وہ سخی دل کے ہیں لیکن جو ہو ممکن
ہر ایک گداگر کو کریں دان سموسہ
دفتر میں جو ظہرانہ دیا جاتا ہے سب کو
وہ چاہتے ہیں روز ملے نان سموسہ
غم کا کوئی مارا گو ہو کتنا ہی فسردہ
لاتا ہے لبوں پر نئی مسکان سموسہ
کھائیں جو سموسہ تو ہے لازم رہیں محتاط
یہ ہو نہ شکم میں لگے پیکان سموسہ
ناقص کسی بھی شے سے بنا کھائیں نہ ورنہ
کر دے گا ضرور آپ کو ہلکان سموسہ
یوں تو ہے یہ کم قیمت و خوش ذائقہ خوراک
اس نے مجھے دلوایا ہے دیوان سموسہ
اشعار خدا داد ہیں یہ شکر ہے رب کا
یکجا ہوئے ہیں سب یہ بعنوان سموسہ
کلیم چغتائی
No comments:
Post a Comment