لہولہان ہے دروں، کوئی وجود ساتھیا
کوئی چُکا رہا ہے قرض ساتھ سُود ساتھیا
دیارِِ جسم و جان سے کسی کے نقش دُھل سکیں
کوئی طلسم، اسم، دم، کوئی درود ساتھیا
دروں اندھیر مچ رہی ہے پھُونک اسمِ روشنی
فقط نشان چھوڑتے ہیں یہ سجود ساتھیا
کسی کو چاہنے میں اس قدر شدید ہو گئے
کبھی کبھی تو بھُول ہی گئے حدود ساتھیا
یہ چاہِ عشق ہے یہ حُسن ہے، یہ عقل کی گلی
تُو جس کو چاہے چُن لے جس میں جائے کُود ساتھیا
کھُلی ہوا سے اس لیے بھی ہمکنار نہ ہوئے
کہ راس آ گئیں تھیں بیڑیاں، قیود ساتھیا
عدُو پہ اس قدر سلامتی، دُعائیں حد نہیں
رفاقتوں میں زیب ہے سخا و جُود ساتھیا
دھنک سی آنکھ میں عجیب میکشی سی چھا گئی
وہ رنگ آٹھواں جو آیا عود عود ساتھیا
مہرو ندا احمد
No comments:
Post a Comment