غم اگر جزوِ محبت ہے تو غم اور سہی
ہم ستم ہی کے ہیں قابل تو ستم اور سہی
حوصلہ پست نہ کر دور نہیں منزلِ شوق
عشق کی راہ میں دو چار قدم اور سہی
غمِ جاناں میں غمِ دہر بھی شامل کر لوں
زندگی کے لیے کچھ جنسِ الم اور سہی
تُو نہ بیداد سے باز آ مجھے مر جانے دے
میرے حق میں یہ جفا سم ہے تو سم اور سہی
ہم تو یہ کچھ نہیں کہتے کہ بلایا ہے کسے
آپ کی انجمنِ ناز میں ہم اور سہی
ہے اسی راہ میں وحشت بھی کہیں چشم براہ
اے غمِ زیست ذرا چند قدم اور سہی
مجھ کو کیا ڈر کہ مِرا عشقِ مجازی ہے شمیم
اک خدا اور سہی، ایک صنم اور سہی
شمیم فتحپوری
No comments:
Post a Comment