تیرے خیال تیرے ہی منظر میں جاگ کر
روشن آنکھیں ایک ہی محور میں جاگ کر
کروٹ بدلتے رہتے ہیں بستر میں جاگ کر
گنتے ہیں تارے وہ بھی برابر میں جاگ کر
کھویا ہوا میں رہتا ہوں احباب ان دنوں
وہم و گماں کے روز ہی محشر میں جاگ کر
سوزش ہے آنکھ میں ابھی اور سر میں درد بھی
فکر و تخیلات کے دفتر میں جاگ کر
مہر و وفا کا خیمہ سلامت رکھیں سدا
وہ دو سپاہی عشق کے لشکر میں جاگ کر
شاعر کبھی نہ پاتے اگر خواب دیکھتے
لکھوا کے لائے تم کو مقدر میں جاگ کر
ہیں بہر کیف دونوں ہی اب محوِ اضطراب
باہر میں جاگ کر کوئی اندر میں جاگ کر
رندوں کے پاؤں آپ تھرکنے لگیں نہ کیوں
رقصاں شراب رہتی ہے ساغر میں جاگ کر
ہوش و حواس میں نہیں مسرور آج کل
محوِ جنوں ہیں خواہشِ دلبر میں جاگ کر
مسرور نظامی
No comments:
Post a Comment