ہمارا رونا جب رویا گیا
کچھ ایسا ہے
کہ ادھی رات کے پہلو سے اٹھ کر
دکھ
ہمارے پاس آتے ہیں
ہمیں اپنا سمجھ کر
اپنے سارے دکھ سناتے ہیں
ہمیں رونا نہیں آتا
ہمارا فرض بنتا ہے
کہ ہم ان سب دکھوں کو
ایک اک کر کے گلے لپٹائیں
پُرسا دیں
ہم اس خواہش میں
رونے کی اداکاری بھی کرتے ہیں
ہمیں رونا نہیں آتا
ہم ان لمحوں سے ڈرتے ہیں
کہ جن لمحوں کی قسمت میں
ہمارا رونا لکھا ہے
ہمارا رونا جب رویا گیا
اس دن تماشا دیدنی ہو گا
طارق حبیب
No comments:
Post a Comment