Friday, 19 November 2021

ہمارا رونا لکھا ہے

 ہمارا رونا جب رویا گیا


کچھ ایسا ہے

کہ ادھی رات کے پہلو سے اٹھ کر

دکھ

ہمارے پاس آتے ہیں

ہمیں اپنا سمجھ کر 

اپنے سارے دکھ سناتے ہیں

ہمیں رونا نہیں آتا

ہمارا فرض بنتا ہے 

کہ ہم ان سب دکھوں کو

ایک اک کر کے گلے لپٹائیں

پُرسا دیں

ہم اس خواہش میں 

رونے کی اداکاری بھی کرتے ہیں 

ہمیں رونا نہیں آتا

ہم ان لمحوں سے ڈرتے ہیں

کہ جن لمحوں کی قسمت میں 

ہمارا رونا لکھا ہے

ہمارا رونا جب رویا گیا

اس دن تماشا دیدنی ہو گا 


طارق حبیب

No comments:

Post a Comment