مِری مٹھی میں مٹی ہے محبت کی
یہ دولت کائناتی ہے محبت کی
میں پتھر کو بدل دیتا ہوں ریشم میں
مِرے ہاتھوں میں نرمی ہے محبت کی
تمہیں دیکھوں تو نفرت سے نہیں فرصت
مجھے دیکھو تو جلدی ہے محبت کی
چراغ دل کبھی بجھتا نہیں میرا
مزاج خوں میں گرمی ہے محبت کی
رگ و پے میں اترتا ہے عجب نشہ
تِری آنکھوں میں مستی ہے محبت کی
اسی میں ہے ہماری سر خوشی آخر
اسے تھامو یہ رسی ہے محبت کی
نہیں ہے ترش اس کا ذائقہ شاہد
بہت میٹھی یہ اِملی ہے محبت کی
محمود شاہد
No comments:
Post a Comment