Tuesday, 13 September 2022

وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں

 وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں

ہم اسے بے بصری کہتے ہیں

نام اس کا ہے اگر با خبری

پھر کسے بے خبری کہتے ہیں

کیا اسی کار‌ نظر بندی کو

حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں

گل کے اوراق پہ کانٹوں کا گماں

کیا اسے خوش نظری کہتے ہیں

بہرِ بیمار دوا ہے نہ دعا

کیا اسے چارہ گری کہتے ہیں

کم کسی کو یہ خبر ہے کہ کسے

رنج بے بال و پری کہتے ہیں

آپ خود بھی تو گل انداموں کو

حُور کہتے ہیں، پری کہتے ہیں

فصل گل ہی تو ہے وہ ہم جس کو

موسم جامہ دری کہتے ہیں

عشق میں عین ہنر مندی ہے

سب جسے بے ہنری کہتے ہیں

ہم پہ یہ بھی ہے اک الزام کہ ہم

داستاں درد بھری کہتے ہیں

کوئی خوش ہو کہ خفا ہو حیرت

ہم تو ہر بات کھری کہتے ہیں


عبدالمجید حیرت

No comments:

Post a Comment