وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں
ہم اسے بے بصری کہتے ہیں
نام اس کا ہے اگر با خبری
پھر کسے بے خبری کہتے ہیں
کیا اسی کار نظر بندی کو
حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں
گل کے اوراق پہ کانٹوں کا گماں
کیا اسے خوش نظری کہتے ہیں
بہرِ بیمار دوا ہے نہ دعا
کیا اسے چارہ گری کہتے ہیں
کم کسی کو یہ خبر ہے کہ کسے
رنج بے بال و پری کہتے ہیں
آپ خود بھی تو گل انداموں کو
حُور کہتے ہیں، پری کہتے ہیں
فصل گل ہی تو ہے وہ ہم جس کو
موسم جامہ دری کہتے ہیں
عشق میں عین ہنر مندی ہے
سب جسے بے ہنری کہتے ہیں
ہم پہ یہ بھی ہے اک الزام کہ ہم
داستاں درد بھری کہتے ہیں
کوئی خوش ہو کہ خفا ہو حیرت
ہم تو ہر بات کھری کہتے ہیں
عبدالمجید حیرت
No comments:
Post a Comment