Tuesday, 13 September 2022

طرز میں اجتناب سا کچھ ہے

 طرز میں اجتناب سا کچھ ہے

رُخ پہ بھی اضطراب سا کچھ ہے

مہر سا ماہتاب سا کچھ ہے

اس کا پرتُو جناب سا کچھ ہے

اس پہ تکیہ کریں تو کیسے کریں

زندگانی حباب سا کچھ ہے

چاندبدلی کی اوٹ میں یوں لگا

رُخ پہ جیسے نقاب سا کچھ ہے

سلسلہ زندگی کا کیا کہیۓ

خواب در خواب خواب سا کچھ ہے

دلبرا! تیرے اک تغافل پر

دل پہ گزرا عذاب سا کچھ ہے

حالتِ دل تو ہم چھپا لیتے

حال بھی تو خراب سا کچھ ہے

کچھ ہیں تیور تمہارے شوریدہ

اور زمانہ خراب سا کچھ ہے

ہر نظر باب زندگی کا ہے

اس میں لکھا نصاب سا کچھ ہے

ایک چہرہ کتاب جیسا ہے

رقم اک انتساب سا کچھ ہے

گو میں قائل نہ کر سکی اس کو

لیک وہ لا جواب سا کچھ ہے

درِ دل میں بسا لیا ہے جو

طاہرہ! انتخاب سا کچھ ہے


طاہرہ مسعود

No comments:

Post a Comment