Monday, 21 June 2021

مٹی نہ تشنگی آب رواں کے ہوتے ہوئے

 مٹی نہ تشنگی آبِ رواں کے ہوتے ہوئے 

جُھلستا رہ گیا میں سائباں کے ہوتے ہوئے 

ہوئی نہ قدر مِری قدر داں کے ہوتے ہوئے 

رہا میں خاک بہ سر مہرباں کے ہوتے ہوئے

لُٹے ہیں دن کے اُجالے میں ہم سرِ بازار 

زمیں کے سامنے اور آسماں کے ہوتے ہوئے 

نظامِ جبر بالآخر شکست کھائے گا 

تُفنگ و خنجر و تیغ و سِناں کے ہوتے ہوئے

تمہیں تو دعوئ منصورِ وقت تھا شاہیں 

خموش کیوں رہے منہ میں زباں کے ہوتے ہوئے


شاہین بیگ

No comments:

Post a Comment