ایسی تنہائی کہ دشمن ہے نہ محرم کوئی
جس جگہ میں ہوں نہیں دوسرا آدم کوئی
ہم تِرے لمس کے مہکائے ہوئے ہیں، ورنہ
کاغذی پھول ہیں، خوشبو نہیں پیہم کوئی
میں تِری سوچ پہ ہنس سکتا ہوں، لیکن دکھ ہے
مسکرانے کا مہینہ ہے محرّم کوئی؟
ہجر کا گھاؤ مِرے دل میں ابھی تازہ ہے
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اس زخم کا مرہم کوئی
روز اک طاق میں جلتا ہے دِیا یادوں کا
روز کرتا ہے تِرے نام پہ ماتم کوئی
زندگی ایسے مِرے ساتھ خفا رہتی ہے
جیسے بگڑے ہوئے بچے پہ ہو برہم کوئی
ایک دریا ہے، تِرے خواب ہیں، کچھ یادیں ہیں
کاسۂ چشم میں آباد ہے عالم کوئی
بہنام احمد
No comments:
Post a Comment