Friday, 4 June 2021

نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی

 نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی

دنیا میں کس نے کی ہے کسی سے وفا کبھی

ایسا بھی اتفاق جنوں میں ہوا کبھی

میں ہنستے ہنستے سوچ کے کچھ رو پڑا کبھی

بیٹھا ہوں اس امید پہ اک رہگزار پر

لے آئے اس طرف تجھے شاید خدا کبھی

اے دل یہ میرا حسن سماعت نہ ہو کہیں

تُو نے بھی کیا سنی ہے وہ آواز پا کبھی

اس رشکِ گل کے ساتھ گئی تھی خرام کو

پھر لوٹ کر ادھر نہیں آئی صبا کبھی

رفعت غموں کی تیز ہواؤں کے باوجود

ہم نے چراغ دل کا نہ بجھنے دیا کبھی


رفعت سلطان

No comments:

Post a Comment