Friday, 4 June 2021

گلابی شام میں رنگوں کی کہکشاں بن کر

 گُلابی شام میں رنگوں کی کہکشاں بن کر

نظر اُٹھی مِرے جذبوں کی ترجماں بن کر

وہ سحر تھا کہ کوئی سازاس کی قربت کا

کہ نغمہ خواں ہوئی دھڑکن بھی داستاں بن کر

میں اس میں رُوئے بہاراں تلاشتی ہی رہی

جو صحنِ دل کو بھسم کر گیا خزاں بن کر

میں جس شجر سے بھی رنگِ حیات پانے گئی

شکارِ برقِ پتاں ہو گیا دُھواں بن کر

شدید چاہ ہے سائے میں اپنے بیٹھ رہوں

پر اگلے پل یہ ملے گا عذابِ جاں بن کر

یہ بندشوں کے نگر میں سخن دری کا جنوں

ہیں گُفتگو میں تخیل مِری زباں بن کر


عابدہ تقی

No comments:

Post a Comment