یہ کیسی زندگی ہے
مسلسل جنگ سی ہے
بہت سے زیر و بم ہیں
زمیں بھی اٹ پٹی ہے
ہماری انگلیوں کی
بدل جاتے ہیں پیکر
مگر انساں وہی ہے
نہ کھونے کا کوئی غم
نہ ہونے کی خوشی ہے
ابھی تک صفر ہیں ہم
ابھی تک سب خفی ہے
نہیں سنتی کسی کی
تمنا سر پھری ہے
کروں کیا سوزؔ آخر
لہو میں برہمی ہے
احمد سوز
No comments:
Post a Comment