مئے کوثر کا اثر چشمِ سیہ فام میں ہے
ساقیٔ مست عجب کیف تِرے جام میں ہے
دیکھیے فیصلۂ یاس و تمنا کیا ہو؟
صبحِ محشر کی جھلک تیرگئ شام میں ہے
چھا گئے شیوۂ بے دادا پہ دل کش نغمے
مطمئن خود ہی نہیں پھر اثر انداز ہو کیا
پندِ واعظ ابھی اندیشۂ انجام میں ہے
آرزو لطف طلب، عشق سراسر ناکام
مبتلا زندگی دلؔ انہیں اوہام میں ہے
دل شاہجہانپوری
No comments:
Post a Comment