Friday, 19 March 2021

کیا زندگی نے رکھی سوغات میرے حق میں

 کیا زندگی نے رکھی سوغات میرے حق میں

ہر جیت اس کو حاصل ہر مات میرے حق میں

تقسیم ہو گیا ہے دونوں میں ایک رہبر

اک ہاتھ اس کے حصہ، اک ہات میرے حق میں

مدت سے نم ہے دامن، آخر دکھائیں کس کو

اک روز ہو گئی تھی برسات میرے حق میں

ہیں رونقیں کہیں، تو بیداریاں کہیں ہیں

جو رات اس کے حق میں وہ رات میرے حق میں

یوں مشترک تھے ہم سب ہر فرد تھا مساوی

پھر بھی ہیں سارے مشکل حالات میرے حق میں

کیا خوب ہے تمہارا یہ منصبِ سخاوات

سب التفات خود پر، ظلمات میرے حق میں


پون کمار

No comments:

Post a Comment