Friday, 19 March 2021

حجاب بن کے وہ میری نظر میں رہتا ہے

 حجاب بن کے وہ میری نظر میں رہتا ہے

مجھی سے پردہ ہے میرے ہی گھر میں رہتا ہے

کبھی کسی کا تجسس، کبھی خود اپنی تلاش

عجیب دل ہے، ہمیشہ سفر میں رہتا ہے

جسے خیال سے چھُوتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

اک ایسا حسن بھی میری نظر میں رہتا ہے

جسے کسی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا

سکوں کے ساتھ وہی اپنے گھر میں رہتا ہے

جس ایک لمحے سے صدیاں بدلتی جاتی ہیں

وہ ایک لمحہ مسلسل سفر میں رہتا ہے

تمام شہر کو ہے جس پہ ناز اے جوہر

اک ایسا شخص ہمارے نگر میں رہتا ہے 


جوہر بجنوری

چندر پرکاش

No comments:

Post a Comment