Friday, 19 March 2021

جنگ کے میداں کو جب سرور چلے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین و شہدائے کربلا


جنگ کے میداں کو جب سرور چلے

ہر طرف بھالے گڑے، خنجر چلے

دھوپ کے صحرا کا منظر الاماں

اوڑھ کر تطہیر کی چادر چلے

اف رے آلِ مصطفیٰ پر یہ ستم

بیڑیوں میں پھول سا عابد چلے

سن کے سیتل کربلا کا سانحہ

سینکڑوں خنجر میرے دل پر چلے


ترلوک سنگھ سیتل

No comments:

Post a Comment