عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
لکھا ہے آسماں پہ فسانہ حسینؑ کا
سب کا حسینؑ، سارا زمانہ حسینؑ کا
کوئی امام، کوئی پیمبر، کوئی ولی
کتنا ہے سر بلند گھرانہ حسینؑ کا
ہو گی کوئی تو بات کہ صدیوں کے بعد بھی
جس دل کو دیکھیے، ہے دیوانہ حسینؑ کا
میں حر ہوں چاہیے مجھے تھوڑی سے نقشِ پا
کوئی مجھے بتا دے ٹھکانہ حسینؑ کا
آزادی خیال کی تحریک ہی تو ہے
عاشور کو چراغ بجھانا حسینؑ کا
مظلومیت کے وار سے ظالم نہ بچ سکا
آخر ہدف پہ بیٹھا نشانہ حسینؑ کا
اب بھی زبانیں خشک ہیں پہرے فرات پر
دہرا رہا ہے خود کو زمانہ حسینؑ کا
کب سے چکا رہا ہوں قصیدوں میں اے خمار
مجھ پر ہے کوئی قرض پرانا حسینؑ کا
ستنام سنگھ خمار
No comments:
Post a Comment