تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے
جب رات میں جگنو کو چمکتے ہوئے دیکھوں
بھنوروں کو جو پھولوں پہ مچلتے ہوئے دیکھوں
پروانوں کو جب شمع پر جلتے ہوئے دیکھوں
تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے
دن تیرے انتظار میں کٹ کٹ کے گزر جائے
راتوں کو یاد چاندنی بن بن کے بکھر جائے
دیکھوں اگر تجھے تو میری سانج سنور جائے
تیرے قریب آ کے حسن اور نکھر جائے
یادوں میں کبھی چاند کو چھپتے ہوئے دیکھوں
تاروں کو ٹمٹماتے چمکتے ہوئے دیکھوں
ہر اور چاندنی کو جھٹکتے ہوئے دیکھوں
تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے
آ جا، آ بھی جا، کہ تیری یاد آ رہی ہے
معصوم آرزو کی کلی مسکرا رہی ہے
خوشبو کسی کے لمس کی مجھ کو لبھا رہی ہے
جیسے محبتوں کے فضا گیت گا رہی ہے
دوپہر میں جب ریت کو تپتے ہوئے دیکھوں
چنگاری کو شعلوں میں بدلتے ہوئے دیکھوں
تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے
جب بھی یہ سوچتی ہوں تیری یاد اب نا آئے
خود سے ہی پوچھتی ہوں تجھے کیسے دل بلائے
دھرتی کو آسمان سے ملتے ہوئے دیکھوں
بلبل کو آشیاں میں چہکتے ہوئے دیکھوں
موسم کو بھی انداز بدلتے ہوئے دیکھوں
تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے
لتا حیا
No comments:
Post a Comment