Friday, 19 March 2021

تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے

 تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے


جب رات میں جگنو کو چمکتے ہوئے دیکھوں

بھنوروں کو جو پھولوں پہ مچلتے ہوئے دیکھوں

پروانوں کو جب شمع پر جلتے ہوئے دیکھوں

تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے

دن تیرے انتظار میں کٹ کٹ کے گزر جائے

راتوں کو یاد چاندنی بن بن کے بکھر جائے

دیکھوں اگر تجھے تو میری سانج سنور جائے

تیرے قریب آ کے حسن اور نکھر جائے

یادوں میں کبھی چاند کو چھپتے ہوئے دیکھوں

تاروں کو ٹمٹماتے چمکتے ہوئے دیکھوں

ہر اور چاندنی کو جھٹکتے ہوئے دیکھوں

تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے

آ جا، آ بھی جا، کہ تیری یاد آ رہی ہے

معصوم آرزو کی کلی مسکرا رہی ہے

خوشبو کسی کے لمس کی مجھ کو لبھا رہی ہے

جیسے محبتوں کے فضا گیت گا رہی ہے

دوپہر میں جب ریت کو تپتے ہوئے دیکھوں

چنگاری کو شعلوں میں بدلتے ہوئے دیکھوں

تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے

جب بھی یہ سوچتی ہوں تیری یاد اب نا آئے

خود سے ہی پوچھتی ہوں تجھے کیسے دل بلائے

دھرتی کو آسمان سے ملتے ہوئے دیکھوں

بلبل کو آشیاں میں چہکتے ہوئے دیکھوں

موسم کو بھی انداز بدلتے ہوئے دیکھوں

تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے


لتا حیا

No comments:

Post a Comment