Friday, 19 March 2021

کسی شرط پر ترے دھیان سے نہیں جاؤں گا

 کسی شرط پر تِرے دھیان سے نہیں جاؤں گا

میں کہیں بھی اپنے مکان سے نہیں جاؤں گا

ذرا دھیان سے مِرے ذائقے کا چُناؤ کر

مجھے چکھ لیا تو زبان سے نہیں جاؤں گا

بڑے کج ادا ہیں یہ اقتدار کے راستے

مجھے لگ رہا ہے میں شان سے نہیں جاؤں گا

تِرا ماتھا چُومے بغیر آیا ہوں جنگ پر

یہ اشارہ ہے کہ میں جان سے نہیں جاؤں گا

مِرا رب سدا مِری جیب یونہی بھری رکھے

میں کبھی تمہاری دُکان سے نہیں جاؤں گا


خرم آفاق

No comments:

Post a Comment