مجھے رخصت کرو
مجھے رُخصت کرو
کسی انجان وادی کی
کسی بے نام کُٹیا میں
مِری پہچان رکھی ہے
مجھے اس تک پہنچنا ہے
یہ حرفِ معذرت کیسا؟
کہ تم میری بہت لمبی مسافت کا پڑاؤ تھے
مجھے آگے نکلنا ہے
کسی انجان وادی کی
کسی بے نام کُٹیا میں مجھے منزل بلاتی ہے
مجھے رُخصت کرو
مِری پہچان کے گھمبیر رستوں کی مسافت پر
مجھے رُخصت کرو
منصورہ احمد
No comments:
Post a Comment