Thursday, 18 March 2021

وہ بولتی کچھ بھی نہیں

 وہ بولتی کچھ بھی نہیں


ہنستی مسکراتی ہے 

نہ اب کھلکھلاتی ہے 

وہ گھر سے باہر جاتے ہوئے 

ڈر ڈر سی جاتی ہے 

خود کو پردوں میں چھپاتی ہے

 وہ بولتی کچھ بھی نہیں 

سنا ہے 

کسی آلی (عالی/اعلیٰ) گھرانے کے 

کسی اچھے عہدے کے 

لڑکے نے 

اسے مسل ڈالا تھا 

انصاف کی عدالت میں 

کچھ نوٹوں کے بدلے میں

انصاف کچل ڈالا تھا 

اس کے مجبور بابا نے 

باقی بیٹیوں کی خاطر 

مجرم معاف کر دیا تھا 

تب ہی سے 

وہ بولتی کچھ بھی نہیں 

بس آنسو بہاتی ہے


زہرا علوی

No comments:

Post a Comment