Thursday, 18 March 2021

کیسے رستے ہیں نگر کیسا ہے

 کیسے رستے ہیں نگر کیسا ہے

زندگانی کا سفر کیسا ہے

تم تو اس گاؤں سے ہو آئے ہو

گاؤں کیسا ہے وہ گھر کیسا ہے

خار پتوں کی طرح اگتے ہیں

یہ عداوت کا شجر کیسا ہے

جیت کا نشہ تو ہے اپنی جگہ

ہار جانے کا ہنر کیسا ہے

رات، تنہائی کے صحرا میں بسر

دن سرِ راہ گزر کیسا ہے

یہ بھی اس نے نہیں پوچھا جاذب

حال دل، زخم جگر کیسا ہے


سلیمان جاذب

No comments:

Post a Comment