کیسے رستے ہیں نگر کیسا ہے
زندگانی کا سفر کیسا ہے
تم تو اس گاؤں سے ہو آئے ہو
گاؤں کیسا ہے وہ گھر کیسا ہے
خار پتوں کی طرح اگتے ہیں
یہ عداوت کا شجر کیسا ہے
جیت کا نشہ تو ہے اپنی جگہ
ہار جانے کا ہنر کیسا ہے
رات، تنہائی کے صحرا میں بسر
دن سرِ راہ گزر کیسا ہے
یہ بھی اس نے نہیں پوچھا جاذب
حال دل، زخم جگر کیسا ہے
سلیمان جاذب
No comments:
Post a Comment