کھینچتا ہے جنگ میں شمشیر کیا
اب رہی شمشیر کی توقیر کیا
منہدم کر دے گی تیرے خواب کو
پوچھتا ہے خواب کی تعبیر کیا
میں تو خود ہوں اپنی وحشت کا اسیر
تُو مجھے پہنائے گا زنجیر کیا
تیر چھٹتے ہیں کمانوں سے بہت
جو نہ ہو زیبِ گلو وہ تیر کیا
کس لیے جلوؤں میں یی نیرنگ ہے
آئینے میں ہے تِری تصویر کیا
بجھ رہے ہیں لفظ و معنی کے چراغ
روشنی دے گی مِری تحریر کیا
انیس اشفاق
No comments:
Post a Comment