Sunday, 4 January 2026

کھینچتا ہے جنگ میں شمشیر کیا

 کھینچتا ہے جنگ میں شمشیر کیا

اب رہی شمشیر کی توقیر کیا

منہدم کر دے گی تیرے خواب کو

پوچھتا ہے خواب کی تعبیر کیا

میں تو خود ہوں اپنی وحشت کا اسیر

تُو مجھے پہنائے گا زنجیر کیا

تیر چھٹتے ہیں کمانوں سے بہت

جو نہ ہو زیبِ گلو وہ تیر کیا

کس لیے جلوؤں میں یی نیرنگ ہے

آئینے میں ہے تِری تصویر کیا

بجھ رہے ہیں لفظ و معنی کے چراغ

روشنی دے گی مِری تحریر کیا


انیس اشفاق

No comments:

Post a Comment