Sunday, 4 January 2026

آپ کے شہر میں آ کر یہ سزا پائی ہے

 آپ کے شہر میں آ کر یہ سزا پائی ہے

انگلیاں اٹھتی ہیں سب کہتے ہیں سودائی ہے

اب وہ وحشت ہے نہ وہ بادیہ پیمائی ہے

تیرا بیمار ہے اور گوشۂ تنہائی ہے

اس تماشہ گہ ایجاد میں اے دیدہ ورو

جو تماشہ ہے وہی اپنا تماشائی ہے

زندگی ایسا حسیں خواب ہے جس کی خاطر

ہم نے ہر حال میں جینے کی قسم کھائی ہے

میں نے کیا سوچ کے پھاڑا تھا گریباں اپنا

لوگ کیا سمجھے جو کہتے ہیں کہ سودائی ہے

کون سوئے ہوئے فتنوں کو جگا سکتا تھا

یہ بھی سرکار کا اعجاز مسیحائی ہے

خاک کے ذرے کو کمزار نہ سمجھو لوگو

اس کے دل میں بھی قیامت کی توانائی ہے

کیا کروں کیا نہ کروں تُو ہی بتا اے ساقی

تیرے میکش کی نہیں، خود تیری رسوائی ہے

اب ہمیں کون ہٹائے گا یہاں سے میکش

جان دے کر کوئے جاناں میں جگہ پائی ہے


میکش لکھنوی

آغا محمد حیدر 

No comments:

Post a Comment