Sunday, 4 January 2026

تربت شہ عالم کی نظروں میں سمائی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تربت شہ عالمﷺ کی نظروں میں سمائی ہے

بینائی مِری اس نے آنکھوں کی بڑھائی ہے

یاں ابتر و اعلیٰ کی تکرار ہے لا حاصل

"ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے"

پردہ رُوئے جاناں سے ہٹتے ہی دو عالم کا

ہر ذرہ ہے دیوانہ ہر شخص فدائی ہے

مدہوش وہ رہتا ہے ہر وقت محبت میں

آنکھوں سے جسے تُو نے اک جام پلائی ہے

مختار بنایا ہے؛ مولیٰ نے تجھے آقاﷺ

ہر شئے کا تُو مالک ہے قدموں میں خدائی ہے

مخمور محبت میں کہتا ہے یہ دیوانہ

ہر شئے میں تِری جاناں بس جلوہ نمائی ہے

دکھ درد کا مارا یہ بے کس ہے شہا طاہر

حامی نہیں کوئی بھی سرکارﷺ دہائی ہے


طاہر حسین

No comments:

Post a Comment