Sunday, 4 January 2026

دھوپ کا نام جو ہے سایہ تو سایہ ہی سہی

 دھوپ کا نام جو ہے سایہ تو سایہ ہی سہی

آپ کہتے ہیں اگر ایسا تو ایسا ہی سہی

ہم بھی جینے کا محبت میں تماشہ کر لیں

زندگی جو ہے تماشہ تو تماشہ ہی سہی

کیوں نہ یہ مرتے ہوئے لمحے غنیمت جانوں

لمحوں کا ایسا ہی ہے لاشہ تو لاشہ ہی سہی

غیر ہی قتل کرے مجھ کو ضروری تو نہیں

میرا قاتل ہے شناسا تو شناسا ہی سہی

ہم نے کب عشق کو سمجھا ہے تجارت جاناں

عشق تم سے ہے خسارہ تو خسارہ ہی سہی

پیار تو کر کے نبھا لوں میں قسم سے خندہ

پیار گر وہم ہے دھوکہ ہے تو دھوکا ہی سہی


فرخندہ رضوی خندہ

No comments:

Post a Comment