Sunday, 4 January 2026

غم کا آنسو ہو تو آنکھوں کو خوشی ملتی ہے

 غم کا آنسو ہو تو آنکھوں کو خوشی ملتی ہے

خشک لکڑی کو تو دیمک بھی بڑی لگتی ہے

گھر سے یوں ہی نہیں مانوس ہواؤں کا گزر 

ایک کھڑکی ہے جو ساحل کی طرف کُھلتی ہے

کب تقاضا ہے کہ تم دور تلک ساتھ رہو 

یہ تو گاڑی ہے کسی موڑ پہ رُک سکتی ہے 

میں کسی اور کے دُکھ بانٹنے میں رہتا ہوں

وہ کسی اور کے دُکھ بانٹنے میں رہتی ہے

سوز کرتا ہے گوّیے کے ہُنر کو سونا

ورنہ ٹُھمری بھی طبیعت پہ گراں ہوتی ہے

ہم تعلق کو نبھا لیں گے مری جاں ورنہ

قید تو قید ہے یہ کس کو بھلی لگتی ہے

وقت رفتار میں جکڑا ہوا اک پنچھی ہے

اس کی کانٹوں سے کہ پھولوں سے کہاں بنتی ہے


رضوان مقیم

No comments:

Post a Comment