غم کا آنسو ہو تو آنکھوں کو خوشی ملتی ہے
خشک لکڑی کو تو دیمک بھی بڑی لگتی ہے
گھر سے یوں ہی نہیں مانوس ہواؤں کا گزر
ایک کھڑکی ہے جو ساحل کی طرف کُھلتی ہے
کب تقاضا ہے کہ تم دور تلک ساتھ رہو
یہ تو گاڑی ہے کسی موڑ پہ رُک سکتی ہے
میں کسی اور کے دُکھ بانٹنے میں رہتا ہوں
وہ کسی اور کے دُکھ بانٹنے میں رہتی ہے
سوز کرتا ہے گوّیے کے ہُنر کو سونا
ورنہ ٹُھمری بھی طبیعت پہ گراں ہوتی ہے
ہم تعلق کو نبھا لیں گے مری جاں ورنہ
قید تو قید ہے یہ کس کو بھلی لگتی ہے
وقت رفتار میں جکڑا ہوا اک پنچھی ہے
اس کی کانٹوں سے کہ پھولوں سے کہاں بنتی ہے
رضوان مقیم
No comments:
Post a Comment