جگر کا خون دلِ داغدار ان کے لیے
میں وقف کر چکا یہ لالہ زار ان کے لیے
چمن پہ دونوں کا حق ہے مگر ہے فرق اتنا
خزاں ہمارے لیے ہے، بہار ان کے لیے
جنہیں خبر نہ ہوئی آج تک مِرے دل کی
تڑپ رہا ہے دلِ بے قرار ان کے لیے
جو دے رہے ہیں مجھے غم پہ غم وہ شاد رہیں
یہی دعا ہے مِری بار بار ان کے لیے
وہ شمع جس نے جلایا تھا بے گناہوں کو
تمام رات رہی اشکبار ان کے لیے
میکش لکھنوی
آغا محمد حیدر
No comments:
Post a Comment