خوشی تلاش نہ کر آدمی کے چہرے پر
اداسیاں ہیں بہت زندگی کے چہرے پر
نہ جانے کس کی نظر کھا گئی سکونِ نظر
کہ اضطراب سا ہے اب خوشی کے چہرے پر
اندھیری رات میں جینے کے لوگ عادی ہیں
نقاب ڈال دو خود روشنی کے چہرے پر
ہمارے شہر میں ایسا بھی انقلاب آیا
کہ بس غبار ملا دوستی کے چہرے پر
جو شخص تھوک رہا تھا بلندیوں کی طرف
رقم تھیں ذلتیں ساری کے چہرے پر
امیر شہر کی ہر داستانِ لطف و کرم
ملے گی لکھی ہوئی مفلسی کے چہرے پر
نشانِ زخم کہیں ہے، لہو کا رنگ کہیں
بغور دیکھو تو میری صدی کے چہرے پر
زبان رکھ کے بھی اندیشہ مجھ کو رہتا ہے
بکھر نہ جاؤں کہیں خامشی کے چہرے پر
کسی کا چہرہ خوشی سے گلال تھا گوہر
حدیثِ درد لکھی تھی کسی کے چہرے پر
گوہر شیخ پوروی
سید علی حسنین
No comments:
Post a Comment