Saturday, 3 January 2026

پہچان کم ہوئی نہ شناسائی کم ہوئی

 پہچان کم ہوئی نہ شناسائی کم ہوئی

باقی ہے زخم زخم کی گہرائی کم ہوئی

سلگا ہوا ہے زیست کا صحرا افق افق

چہروں کی دل کشی گئی زیبائی کم ہوئی

دوری کا دشت جس کے لیے سازگار تھا

آنگن میں قرب کے وہ شناسائی کم ہوئی

اب شہر شہر عام ہے گویائی کا سکوت

جب سے لب سکوت کی گویائی کم ہوئی

کچھ ہو نہ ہو خموشیٔ آئینہ سے مگر

پرچھائیوں کی معرکہ آرائی کم ہوئی

ہر رنگ زندگی ہے تہہ گرد و روزگار

تصویر کی وہ رونق و رعنائی کم ہوئی

اک اجنبی دیار میں گزرے ہیں دن مگر

یہ کم نہیں خلوص کی رسوائی کم ہوئی

راہی! رفاقتوں کا یہ انجام دیکھ کر

سائے کے ساتھ اپنی شناسائی کم ہوئی


راہی قریشی

No comments:

Post a Comment