Wednesday, 17 March 2021

میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں

 میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں

کہ خواب آنکھ میں ہو آنکھ سو نہ جائے کہیں

میں جانتا ہوں بہت روز وہ نہ ٹھہرے گا

مگر اس عرصے میں وہ زہر بو نہ جائے کہیں

جو ایک عکس بنایا تھا پچھلی بارش میں

وہ شکل اب کے سے برسات دھو نہ جائے کہیں

اسے یہ شکوہ کہ میں نے نہ پوچھا حال اس کا

مجھے یہ خوف میں بولا تو رو نہ جائے کہیں

بڑھی جو عمر تو اب تجربہ ستانے لگا

ہے ڈر کہ بوڑھا شجر ہم سے کھو نہ جائے کہیں

بڑوں کے فیض سے حاصل ہے شمس کو یہ کمال

کہ اس کے ساتھ جو آ جائے تو نہ جائے کہیں


شمس تبریزی

No comments:

Post a Comment