مجھے اک نظم لکھنی چاہیے تھی
ہسپتالوں میں پڑے بیمار پُرسوں پر
مجھے دریا بدلتی کشتیوں اور بند ہوتے پھاٹکوں پر نظم لکھنی چاہیے تھی
ایسے لوگوں پر جنہیں لکھنا نہیں آتا
جنہیں رونا نہیں آتا
کسی اندھے بھکاری کے تعارف میں
اور اپنے شہر کے فٹ پاتھ پہ بکتی دعاؤں پر
کسی اونچی عمارت پر جہاں کوئی نہ جاتا ہو
کسی بوڑھے سپاہی پر جسے لڑنا نہ آتا ہو
کسی عورت کے بھدے جسم پر
دیوار سے لٹکی ہوئی تلوار پر
اور بند کمروں پر
مجھے اک نظم لکھنی چاہیے تھی
نظم کہتی لڑکیوں پر
سستے تحفوں پر
کسی ملاح کے دریا میں گرتے آنسوؤں پر
اور اس معذور بچے پر کہ جس کے ساتھ کوئی کھیلتا نہ ہو
مجھے اک نظم لکھنی چاہیے تھی
شہباز گوہر
No comments:
Post a Comment