یہ کیسا ظلم ہوا ہے دلِ تباہ کے ساتھ
گُنہ سے بچتا رہا دل سدا گُناہ کے ساتھ
نشاط ہمسفری ہو تو یہ مسافر بھی
کبھی ملاتا نہیں منزلوں کو راہ کے ساتھ
گُماں کی قید سے پنچھی خیال کا آخر
نکل تو آیا ہے پر خوفِ بے پناہ کے ساتھ
گیا جو عشق تو دُنیا رہی، نہ دین رہا
مصاحبوں کو بھی جانا پڑا ہے شاہ کے ساتھ
عدد کی قتل گہوں سے جو بچ گئے تو سنو
لباسِ شرم و نِدامت بھی ہے پناہ کے ساتھ
جاوید اقبال
No comments:
Post a Comment