Wednesday, 13 April 2022

کوئی عورت کوئی بوڑھا یا بچہ دیکھ لیتے ہیں

 کوئی عورت کوئی بوڑھا یا بچہ دیکھ لیتے ہیں

جدھر کو تیر پھینکیں وہ نشانہ دیکھ لیتے ہیں

ہمیں گھر سے نکلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی

ہم آنکھیں بند کر کے ساری دنیا دیکھ لیتے ہیں

پرانے یار ملنے سے پرانے دن نہیں آتے

مگر کچھ دیر بچپن کا زمانہ دیکھ لیتے ہیں

کبھی کعبہ میں جا کر بھی بتوں سے ملنا پڑتا ہے

کبھی آ کر کلیسا میں بھی کعبہ دیکھ لیتے ہیں

ہمیں خوابوں میں سچی بات بھی بتلائی جاتی ہے

جو بننے میں نہیں آیا وہ نقشہ دیکھ لیتے ہیں

ہمیشہ وہ نہیں کرتے ہمارے دل میں جو آئے

کسی سے بات کرنا ہو تو رشتہ دیکھ لیتے ہیں

تمہاری یاد آتی ہے تو البم کھول کر اکثر

تمہارے ساتھ بیتا کوئی لمحہ دیکھ لیتے ہیں

جہاں ماں باپ سوتے تھے وہاں کوئی نہیں ہوتا

مگر جب رات اٹھتے ہیں وہ کمرہ دیکھ لیتے ہیں

وطن سے دور لوگوں کو وطن کی یاد آتی ہے

کبھی جب آسمانوں پر پرندہ دیکھ لیتے ہیں

مِرے کچھ دوست ایسے ہیں وہیں سے بچ نکلتے ہیں

جہاں بھی بچ نکلنے کا طریقہ دیکھ لیتے ہیں

کہاں پڑھنے پڑھانے کی ہمیں فرصت ہے اب لیکن

کتابیں ساتھ رکھتے ہیں رسالہ دیکھ لیتے ہیں

اسے آواز دیتے ہیں اسے دل سے بلاتے ہیں

ذرا ہم بھی محبت کا کرشمہ دیکھ لیتے ہیں


کلیم احسان بٹ

No comments:

Post a Comment