Tuesday, 12 April 2022

محبت کو نہ جانے دو

 محبت کو نہ جانے دو


محبت کو نہ جانے دو

اگر تم چاروں جانب غور سے دیکھو

تو تم کو یہ خبر ہو گی

زمانہ ایک مٹھی خاک سے بڑھ کر نہیں جاناں

اگر آنکھوں میں ڈالو گے

تو بینائی گنواؤ گے

اگر دل میں سنبھالو گے، تو تم جینے سے جاؤ گے

زمانہ ایک مُٹھی خاک سے بڑھ کر نہیں جاناں

چھوؤ تو ہاتھ میلے ہوں

چلو اس پر، تو دونوں پیر چھالے ہوں

ہوس نے جال چاروں سمت ڈالے ہیں

اور اس کے روگ کالے ہیں

سنبھل کر جو چلے، مانو مقدر کا سکندر ہے

زمانہ ایک مٹھی خاک سے بڑھ کر نہیں جاناں

مگر اس خاک میں جب دل کی آنکھوں سے کوئی دیکھے

تو اک انمول ہیرا، سامنے اپنے وہ پائے گا

ہزاروں چاند سے بڑھ کر اجالے لے کے آئے گا

اسے حیران کر دے گا

بڑی سے ہو بڑی مشکل، اسے آسان کر دے گا

اسی انمول ہیرے کا محبت نام ہے جاناں

محبت دل پہ دستک دے تو آنے دو

محبت کو نہ جانے دو

مقدر سے اگر تم یہ مل جائے، گنوانا مت

اسے مُٹھی میں بند رکھنا، گرانا مت

یہ وہ دولت ہے جو اک بار

گُم ہو کر نہیں ملتی

یہ ہو خوشبو ہے جو ہر پھول کے در پہ نہیں جاتی

محبت جب چلی جائے کبھی واپس نہیں آتی

محبت کو نہ جانے دو


فاخرہ بتول​

No comments:

Post a Comment