Tuesday, 12 April 2022

وقت کی پیداوار جہاں کم ہوتی ہے

 وقت کی پیداوار جہاں کم ہوتی ہے

جینے کی رفتار وہاں کم ہوتی ہے

حبس کی شدت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے

پھولوں کی مہکار کہاں کم ہوتی ہے

خوف ذخیرہ کر لیتا ہوں قبل از قحط

گرمئ بازار یہاں کم ہوتی ہے

نیند ہی اس کا ذہنی منظر نامہ ہے

یہ بستی بیدار میاں کم ہوتی ہے

میں سسکی کو چیخ نہیں بننے دیتا

یوں میرے غمخوار فغاں کم ہوتی ہے

اپنا آپ دبا رکھا ہے سینے میں

میرے خون کی دھار رواں کم ہوتی ہے

ہریالی کا فرض بہار نبھائے گی

سبزے کی حبدار خزاں کم ہوتی ہے

اس دنیا کی گٹھڑی جتنی وزنی ہو

ہستی کے اس پار گراں کم ہوتی ہے

دل کی بات کا محسوسات سے رشتہ ہے

ہونٹ سے آخر کار بیاں کم ہوتی ہے

جس کا بچپن سرمائے نے قتل کیا

ایسی نسل بھی یار جواں کم ہوتی ہے


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment