وقت کی پیداوار جہاں کم ہوتی ہے
جینے کی رفتار وہاں کم ہوتی ہے
حبس کی شدت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے
پھولوں کی مہکار کہاں کم ہوتی ہے
خوف ذخیرہ کر لیتا ہوں قبل از قحط
گرمئ بازار یہاں کم ہوتی ہے
نیند ہی اس کا ذہنی منظر نامہ ہے
یہ بستی بیدار میاں کم ہوتی ہے
میں سسکی کو چیخ نہیں بننے دیتا
یوں میرے غمخوار فغاں کم ہوتی ہے
اپنا آپ دبا رکھا ہے سینے میں
میرے خون کی دھار رواں کم ہوتی ہے
ہریالی کا فرض بہار نبھائے گی
سبزے کی حبدار خزاں کم ہوتی ہے
اس دنیا کی گٹھڑی جتنی وزنی ہو
ہستی کے اس پار گراں کم ہوتی ہے
دل کی بات کا محسوسات سے رشتہ ہے
ہونٹ سے آخر کار بیاں کم ہوتی ہے
جس کا بچپن سرمائے نے قتل کیا
ایسی نسل بھی یار جواں کم ہوتی ہے
منیر جعفری
No comments:
Post a Comment