Tuesday, 12 April 2022

چھوٹی نماز شام سحر بھی ادا نہ کی

 چُھوٹی نمازِ شام سحر بھی ادا نہ کی

ہم نے تمام عمر خدا سے وفا نہ کی

انصاف کے دیار میں دیکھا ہے بارہا

سُولی پہ ہے چڑھا وہی جس نے خطا نہ کی

ہم نے وفا نبھائی ہے مزدور کی طرح

کٹ بھی گئے تو منہ سے شکایت ذرا نہ کی

تکلیف پر اُداس میرے یار تھےمگر

تھوڑی خوشی ملی تو گوارا ذرا نہ کی


جاوید عارف

No comments:

Post a Comment