صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے
گر دل نہیں میرا تو تِرے بال میں کیا ہے
ویسے تو خود اس چاند کا قائل ہوں میں لیکن
اک روشنی کو چھوڑ کر اس تھال میں کیا ہے
مجنوں ہی بتا سکتا ہے لیلیٰ کی فضیلت
یا سوہنی سے پوچھ کہ مہیوال میں کیا ہے
میں حشر کے میدان میں کہہ دوں گا محبت
پوچھے گا خدا جب تِرے اعمال میں کیا ہے
جی کرتا ہے ان کو تیری تصویر دکھا دوں
جو پوچھتے ہیں مجھ سے کہ بنگال میں کیا ہے
الله بنا دے میرے اشکوں کو کبوتر
سب پوچھ رہے ہیں تیرے رومال میں کیا ہے
دن رات اذیت، وہی تنہائی، اداسی
جانباز بتا اور نئے سال میں کیا ہے
خان جانباز
No comments:
Post a Comment