تیرا سہارا شاہ مجھے ہے
بپتا موری کون سنے گا
تیرا سہارا شاہ مجھے ہے
بیری تورے پیار میں
کملی ہار گئی
دل وار گئی
بکھر رہی ہے تنہائی میں
مجھ کو بانہوں میں بھر لے
کر تو مجھ کو پیار پیا
جیون تجھ پر وار دیا
تُمرے بِن میں ہوں ادھوری
تم چُھو لو تو ہو جاؤں پوری
وصل کیا تو ڈرنا کیا
ہجر نہ مجھ میں بھرنا پیا
پیار نبھانا ہو گا مجھ سے
جوت جگانا ہو گا مجھ سے
تُو دریا ہے، میں ہوں پیاسی
میں کہ رہوں گی تیری داسی
دل میں میرے آن بسے ہو
نیناں میں تم ہی جچے ہو
سر سے پا تا چُومو مجھ کو
وادی وادی پربت پربت
قریہ قریہ گلشن گلشن
ساتھ میں لے گھومو مجھ کو
تیری ہوں میں تیری رہوں گی
تجھ بِن میں تو جی نہ سکوں گی
دعا علی
No comments:
Post a Comment