عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام
حسینؑ با وفا کی جستجو ہے
سو چشمِ باحیا کی جستجو ہے
کنائے استعارے خوب سمجھے
کسی ذِہینِ رسا کی جستجو ہے
ستم کی آندھیوں سے بجھ نہ پائے
مجھے ایسی ضیا کی جستجو ہے
نہیں چاہیں مجھے اب دونوں عالم
فقط حق کی رضا کی جستجو ہے
علی اصغرؑ کے پیاسے ہونٹ چومو
اگر آبِ بقاء کی جستجو ہے
لپکتی آگ، خیمے جل رہے ہیں
اس عالم میں رِدا کی جستجو ہے
بس اپنے نفس کو پہچان لو تم
اگر ذاتِ خدا کی جستجو ہے
کاظم جعفری
No comments:
Post a Comment