Sunday, 5 September 2021

جس کو مطلوب ہیں تمہارے لب

 جس کو مطلوب ہیں تمہارے لب

اس کے لگتا ہے دن بھی تھوڑے ہیں

کل ہی تصویر تیری دیکھی تھی

ہائے کیا کیا خیال جوڑے ہیں

چند شعروں کی مار ہو تم تو

بیسیوں سومنات توڑے ہیں

تیرے وعدوں کا بھرم رکھا تھا

دوست احباب ہم نے چھوڑے ہیں

تجھ کو اپنے قریب کر لیں گے

رخ ہواؤں کے ہم نے موڑے ہیں

بزم میں جب بھی تیرا نام آیا

لوگ وحشت میں آئے دوڑے ہیں

ہر طرح سے غلط تو میں ہی ہوں

آپ تو پارسائی اوڑھے ہیں


احمد وقاص

No comments:

Post a Comment