جس کو مطلوب ہیں تمہارے لب
اس کے لگتا ہے دن بھی تھوڑے ہیں
کل ہی تصویر تیری دیکھی تھی
ہائے کیا کیا خیال جوڑے ہیں
چند شعروں کی مار ہو تم تو
بیسیوں سومنات توڑے ہیں
تیرے وعدوں کا بھرم رکھا تھا
دوست احباب ہم نے چھوڑے ہیں
تجھ کو اپنے قریب کر لیں گے
رخ ہواؤں کے ہم نے موڑے ہیں
بزم میں جب بھی تیرا نام آیا
لوگ وحشت میں آئے دوڑے ہیں
ہر طرح سے غلط تو میں ہی ہوں
آپ تو پارسائی اوڑھے ہیں
احمد وقاص
No comments:
Post a Comment