Sunday, 5 September 2021

بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم

بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم

دور رہ کر بھی مجھے نزدیک تر لگتے ہو تم

کیوں نہ آؤں سج سنور کر میں تمہارے سامنے

خوش ادا لگتے ہو مجھ کو خوش نظر لگتے ہو تم

تم نے لمس معتبر سے بخش دی وہ روشنی

مجھ کو میری آرزوؤں کی سحر لگتے ہو تم

جس کے سائے میں اماں ملتی ہے میری زیست کو

مجھ کو جلتی دھوپ میں ایسا شجر لگتے ہو تم

کیوں تمہارے ساتھ چلنے پر نہ آمادہ ہو دل

خوشبوئے احساس میرے ہم سفر لگتے ہو تم

نازؔ تم پر ناز کرتی ہے محبت کی قسم

زندگی بھر کی دعاؤں کا اثر لگتے ہو تم


ناز بٹ

No comments:

Post a Comment