Sunday, 5 September 2021

اگر کار محبت میں محبت راس آ جاتی

 اگر کارِ محبت میں محبت راس آ جاتی

تمہارا ہجر اچھا تھا جو وصلت راس آ جاتی

گلا پھاڑا نہیں کرتے رفو دریافت کرنے میں

اگر بے کار رہنے کی مشقت راس آ جاتی

تمہیں صیاد کہنے سے اگر ہم باز آ جاتے

ہمیں بھی اس تماشے میں سکونت راس آ جاتی

فقط غصہ پیے جاتے ہیں روز و شب کے جھگڑے میں

کوئی ہنگامہ کر سکتے جو وحشت راس آ جاتی

اگر ہم پار کر سکتے یہ اپنی ذات کا صحرا

تو اپنے ساتھ رہنے کی سہولت راس آ جاتی


کامی شاہ

No comments:

Post a Comment